قاہرہ،5؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مصر کی پولیس نے ایک خاتون کو تشدد کے بعد اسے روشنی کے کھمبے کے ساتھ باندھنے کے الزام میں 13مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی ہے۔ خاتون کو تشدد کا نشانہ بنانے کا یہ واقعہ حال ہی میں شمال مشرقی مصر کے بلبیس شہر میں اس وقت پیش آیا جب ایک مشتعل ھجوم نے ایک خاتون پر بچہ چوری کرنے کا الزام عاید کرنے کے بعد اسے پکڑ کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے روشنی کے ایک کھمبے کے ساتھ رسیوں کیساتھ باندھ دیا۔ پولیس نیاس معاملے کی تحقیقات کیں تو خاتون بے قصور پائی گئی۔
تفصیلات کے مطابق مشرقی گورنری کے سیکیورٹی ڈاریکٹر میجر جنرل رضا طبلیہ نے بتایا کہ انہیں اطلاع دی گئی کہ لوگوں کے ایک ھجوم نے ایک خاتون کو کھمبے کے ساتھ باندھ رکھا ہے اور وہ سے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ مشتعل ھجوم نے خاتون پر ایک گھر کے سامنے سے بچے کو اغواء کرنے کا الزام عاید کیا تھا جو کہ غلط ثابت ہوا ہے۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ خاتون نے گھر کے سامنے کھیلتے بچے کو اغوا کی کوشش کی تھی تاہم پولیس نے واقعے کی تحقیقات کیں تو خاتون بے قصور نکلی۔ اس نے کسی بچے کو اغواء کی کوشش نہیں کی۔ تاہم شبے میں مقامی نوجوانوں کے ایک گروپ نے خاتون کو روکا اور اسے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ایک کھمبے کے ساتھ باندھ دیا۔مشتعل ھجوم نہ صرف خاتون کو تشدد کا نشانہ بناتا رہا بلکہ اس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئیں۔ پولیس نے خاتون سے توہین آمیز سلوک کرنے میں ملوث تیرہ ملزمان کوحراست میں لے کر ان کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔